(۳۳۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَلَغَہُ أَنَّ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ کَانَ بَیْنَہُمْ شَیْئٌ ، فَخَرَجَ یُصْلِحُ بَیْنَہُمْ ، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ مَا لَکُمْ إِذَا نَابَکُمْ شَیْئٌ فِی الصَّلاَۃِ أَخَذْتُمْ فِی التَّصْفِیقِ؟ إِنَّمَا التَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ ، مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَقُلْ سُبْحَانَ اللَّہِ ، فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُہُ أَحَدٌ حِینَ یَقُولُ سُبْحَانَ اللَّہِ إِلاَّ الْتَفَتَ))۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ وَأَخْرَجَاہُ أَیْضًا عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: التَّصْفِیحُ ۔ بَدَلَ: التَّصْفِیقِ۔ وَقَالَ سَہْلٌ: التَّصْفِیحُ ہُوَ التَّصْفِیقُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٣٠) (ا) سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتا چلا کہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی اختلاف ہوا ہے تو آپ ان میں صلح کرنے نکلے۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو تم تالیاں بجانا شروع کردیتے ہو ؟ تالیاں بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔ اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہو۔ جب کوئی سبحان اللہ کہے تو جو سنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا۔
(ب) بخاری ومسلم کی روایت میں دوسری سند سے ہے اس میں تصفیق کی جگہ تصفیح کا لفظ ہے اور سہل نے کہا : تصفیح ہی تصفیق ہے۔