(۳۳۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَہَبَ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ ، فَحَانَتِ الصَّلاَۃُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ فَقَالَ: أَتُصَلِّی لِلنَّاسِ فَأُقِیمَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔قَالَ: فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ - قَالَ - فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِی الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لاَ یَلْتَفِتُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِیقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی اسْتَوَی فِی الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ؟۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: مَا کَانَ لاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیقَ؟ مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُسَبِّحْ ، فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَیْہِ ، وَإِنَّمَا التَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۵۲۔ مسلم ۴۲۱]
(٣٣٢٩) سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے گئے (آپ کو تاخیر ہوگئی) اور نماز کا وقت آپہنچا، موذن (بلال (رض) ) ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ نماز پڑھائیں گے تو میں تکبیر کہوں ؟ انھوں نے فرمایا : اچھا ۔ پھر آپ (رض) نے نماز پڑھانی شروع کردی۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، لوگ نماز پڑھ رہے تھے آپ صف چیرتے ہوئے اندر گھسے اور پہلی صف میں جا کر ٹھہرے، لوگوں نے دستک دینی شروع کردی۔ لیکن ابوبکر (رض) نماز میں ادھر ادھر دھیان نہیں کرتے تھے جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو پھر انھوں نے التفات کیا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے کھڑے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ نماز پڑھاتے جاؤ۔ انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ امامت کیے جاؤ۔ پھر ابوبکر (رض) پیچھے سرک آئے اور پہلی صف میں مل گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے نکل گئی اور آپ نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے ابوبکر ! تم اپنی پر کیوں نہ ٹھہرے رہے جبکہ میں تمہیں حکم دے چکا تھا ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے امامت کروائے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے نماز میں اتنی تالیاں کیوں بجائیں ؟ کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے، جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف دھیان ہوگا اور تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔