(۳۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَیْمٍ الْکُوفِیُّ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْنَا عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْنَا فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَیْکَ فِی الصَّلاَۃِ فَتَرُدُّ عَلَیْنَا۔قَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ شُغْلاً))۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ فُضَیْلٍ
وَفِی حَدِیثِ أَبِی بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِیدِ فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنْتَ تَرُدُّ عَلَیْنَا ، مَا لَکَ الْیَوْمَ لَمْ تَرُدَّ عَلَیْنَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ شُغْلاً))
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۸۵]
(٣٣٤٤) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں ہوتے تو ہم آپ کو سلام کہتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے۔ جب ہم شاہ حبشہ (نجاشی) سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں کوئی جواب نہ دیا تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! پہلے ہم آپ کو نماز میں سلام کہتے تھے تو آپ ہمیں جواب دے دیتے تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں مشغولیت (مصروفیت) ہوتی ہے۔
(ب) ابوبدر شجاع بن ولید کی حدیث میں ہے کہ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے کیا وجہ ہے آج آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔