(۳۳۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ جَمِیعًا عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَیْلٍ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ أَحَدُنَا یُکَلِّمُ یَعْنِی صَاحِبَہُ إِلَی جَنْبِہِ فِی الصَّلاَۃِ حَتَّی نَزَلَتْ {وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} [البقرۃ: ۲۳۸] فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ وَنُہِینَا عَنِ الْکَلاَمِ۔
ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ۔
وَقَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَیْلٍ
وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ شُبَیْلٍ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ: کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِی الصَّلاَۃِ، یُکَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاہُ فِی حَاجَتِہِ حَتَّی نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} [البقرۃ: ۲۳۸] فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۴۲۔ مسلم ۵۳۹]
(٣٣٤٣) (ا) زید بن ارقم نے بیان کیا کہ شروع میں ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران ساتھ والے آدمی سے بات وغیرہ کرلیا کرتا تھا۔ جب یہ آیت { وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرۃ : ٢٣٨] ” اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہوجاؤ۔ “ نازل ہوئی تو ہمیں خاموشی اختیار کرنے اور بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔
(ب) یحییٰ قطان، اسماعیل سے اور وہ حارث بن شبیل سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے کسی بھی ضرورت کے تحت بات کرلیتا لیکن جب یہ آیت : { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرۃ : ٢٣٨] ” نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر اور اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہوجاؤ “ تو ہمیں بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔