(۳۴۰) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ: أَنَّ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ أَرْسَلَہُ إِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ یَسْأَلُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صِفَۃِ وُضُوئِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَفِیہِ قَالَتْ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ تَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِی الْکِتَابِ إِلاَّ غَسْلَتَیْنِ وَمَسْحَتَیْنِ۔
(ق) فَہَذَا إِنْ صَحَّ فَیَحْتَمِلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ بِالْخَفْضِ وَأَنَّہَا تَقْتَضِی الْمَسْحَ ثُمَّ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-تَوَعَّدَ عَلَی تَرْکِ غَسْلِہِمَا أَوْ تَرْکِ شَیْئٍ مِنْہُمَا ذَہَبَ إِلَی وُجُوبِ غَسْلِہِمَا وَقَرَأَہَا نَصَبًا وَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ أَنَّہُ قَرَأَہَا نَصَبًا۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی: [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۹۶]
(٣٤٠) عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین (رض) نے انھیں ربیع بنت معوذ (رض) کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ کے وضو کے (طریقے کے) بارے میں پوچھے، انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے طریقے کے بارے میں حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ آپ نے اپنے پاؤں کو دھویا۔ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس (رض) آئے، میں نے انھیں حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ میں صرف کتاب (قرآن) میں دو دفعہ دھونے اور دو بار مسح کو پاتا ہوں۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس (رض) قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس (رض) کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس (رض) پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس (رض) سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔