(۳۳۹) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ یُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ فَاغْسِلُوا ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَعَرَاقِیبَہُمَا ، فَإِنَّ ذَلِکَ أَقْرَبُ إِلَی جَنَّتِکُمْ۔فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللَّہُ وَکَذَبَ الْحَجَّاجُ ((فَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ)) قَالَ: قَرَأَہَا جَرًّا۔
(ق) فَإِنَّمَا أَنْکَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْقِرَائَ ۃَ دُونَ الْغَسْلِ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبِ الْغَسْلِ۔ وَأَمَّا الَّذِی: [حسن]
(٣٣٩) موسیٰ بن انس فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے) ۔
(ب) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا : وہ أَرْجُلَکُمْ کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس (رض) نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔