(۳۳۹۵) قَالَ الْوَلِیدُ وَأَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: یَسْتَأْنِفُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ: أَحَبُّ الأَقَاوِیلِ إِلَیَّ فِیہِ أَنَّہُ قَاطِعٌ لِلصَّلاَۃِ ، وَہَذَا قَوْلُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ - قَالَ - وَقَوْلُ الْمِسْوَرِ أَشْبَہُ بِقَوْلِ الْعَامَّۃِ فِیمَنْ وَلَّی ظَہْرَہُ الْقِبْلَۃَ عَامِدًا أَنَّہُ یَبْتَدِئُ۔
قَالَ: وَلاَ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ فِی حَالٍ لاَ یَحِلُّ لَہُ فِیہَا الصَّلاَۃُ مَا کَانَ بِہَا ، ثُمَّ یَبْنِی عَلَی صَلاَتِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَکَانَ فِی الْقَدِیمِ یَقُولُ یَبْنِی۔
وَقَالَ فِی الإِمْلاَئِ : لَوْلاَ مَذْہَبُ الْفُقَہَائِ لَرَأَیْتُ أَنَّ مَنْ تَحَرَّفَ عَنِ الْقِبْلَۃِ لِرُعَافٍ أَوْ غَیْرِہِ فَعَلَیْہِ الاِسْتِئْنَافُ ، وَلَکِنْ لَیْسَ فِی الآثَارِ إِلاَّ التَّسْلِیمُ قَالَ ذَلِکَ بِہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ وَمَسَائِلَ أُخَرَ ، وَقَدْ رَجَعَ فِی الْجَدِیدِ إِلَی قَوْلِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
(٣٣٩٥) (ا) مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ نئے سرے سے نماز دوبارہ سے پڑھے۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں : میرے نزدیک سب سے بہتر قول یہی ہے کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ مسور بن مخرمہ (رض) کا قول ہے اور یہ عام حضرات کے قول کے بہت زیادہ مشابہ ہے۔ اس بارے میں کہ جب وہ اپنی پیٹھ قبلہ سے پھیر لے یہ یقین رکھتے ہوئے کہ وہ دوبارہ شروع کرے گا۔
(ج) فرماتے ہیں : یہ بات جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت میں ہو جس میں نماز درست نہیں ہوتی، پھر اسی طرح اپنی نماز پر بنا رکھے۔
(د) ان کا قدیم قول اسی پر بنا کے بارے میں ہے۔
(ہ) وہ ” الاملاء “ میں کہتے ہیں کہ اگر فقہاء کے مذاہب نہ ہوتے تو میں یہ رائے دیتا کہ جو بھی قبلہ سے پھر جائے چاہے نکسیر بہنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، اس کے لیے نماز از سر نو شروع کرنا ضروری ہے۔ لیکن آثار میں صرف سلام آیا ہے۔ فرماتے ہیں : یہ اس مسئلہ اور دوسرے مسائل کے بارے میں ہے اور تحقیق انھوں نے اپنے نئے قول میں مسور (رض) کے قول کی طرف رجوع بھی کر لیا ہے۔ وباللہ التوفیق۔