(۳۴۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِمِنًی
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: ذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَسْجِدِ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَائَ لَیُصَلِّی فِیہِ ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ رِجَالُ الأَنْصَارِ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ ، فَسَأَلْتُ صُہَیْبًا وَکَانَ مَعَہُ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِینَ کَانُوا یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی؟ فَقَالَ صُہَیْبٌ: کَانَ یُشِیرُ إِلَیْہِمْ بِیَدِہِ۔قَالَ سُفْیَانُ فَقُلْتُ لِرَجُلٍ: سَلْہُ أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ؟ فَقَالَ: یَا أَبَا أُسَامَۃَ أَسَمِعْتَہُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا قَدْ کَلَّمْتُہُ وَکَلَّمَنِی وَلَمْ یَقُلْ زَیْدٌ سَمِعْتُہُ۔
وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٠١) اس قصہ میں متعدد روایات ہیں، لیکن ان کی اسناد اس قول میں مرسل ہیں کہ انھوں نے بغیر کسی شک کے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف کی مسجد کی طرف قبا میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھائیں۔ انصار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کہا : میں نے صہیب (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں ان کے سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے ؟ تو صہیب (رض) نے کہا : ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی سے کہا : اس سے پوچھ : کیا تو نے یہ ابن عمر (رض) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : اے ابو اسامہ ! کیا تم نے یہ بات ابن عمر (رض) سے سنی ہے ؟ انھوں نے کہا : یقیناً میں نے ان سے بات کی ہے اور انھوں نے مجھ سے بات کی ہے اور زید نے نہیں کہا کہ میں نے ان سے سنا ہے۔