۳۴۱۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ۔
وَہَذَا اللَّفْظُ یَقْتَضِی نَفْیَ الْغِرَارِ عَنِ الصَّلاَۃِ وَالتَّسْلِیمِ جَمِیعًا ، وَالأَخْبَارُ الَّتِی مَضَتْ تُبِیحُ التَّسْلِیمَ عَلَی الْمُصَلِّی وَالرَّدَّ بِالإِشَارَۃِ ، وَہِیَ أَوْلَی بِالاِتِّبَاعِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤١٢) یہ لفظ سلام اور نماز دونوں میں سستی سے نفی کرتا ہے۔ گزشتہ احادیث نمازی پر سلام کرنے اور نمازی کے اشارے کے ساتھ جواب دینے کو مباح قرار دیتی ہیں اور یہی (احادیث) نقل کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ وباللہ التوفیق