hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3411

.

سنن البيهقي

3411
Sunan Al Bayhaqi
(۳۴۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ غِرَارَ فِی صَلاَۃٍ وَلاَ تَسْلِیمٍ))۔ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِیمَا أُرَی أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ لاَ تُسَلِّمَ وَیُسَلَّمَ عَلَیْکَ ، وَتَغْرِیرُ الرَّجُلِ بِصَلاَتِہِ أَنْ یُسَلَّمَ وَہُوَ فِیہَا شَاکٌّ۔کَذَا فِی کِتَابِی۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: لاَ غِرَارَ فِی صَلاَۃٍ وَلاَ تَسْلِیمٍ۔ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: یَعْنِی فِیمَا أُرَی أَنْ لاَ تُسَلِّمَ وَیُسَلَّمَ عَلَیْکَ ، وَیُغَرَّرَ الرَّجُلُ بِصَلاَتِہِ فَیَنْصَرِفَ وَہُوَ فِیہَا شَاکٌّ ، وَہَذَا اللَّفْظُ أَقْرَبُ إِلَی تَفْسِیرِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاہُ ابْنُ فُضَیْلٍ یَعْنِی عَنْ أَبِی مَالِکٍ عَلَی لَفْظِ ابْنِ مَہْدِیٍّ وَلَمْ یَرْفَعْہُ وَرَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ سُفْیَانَ بِإِسْنَادِہِ قَالَ أُرَاہُ رَفَعَہُ قَالَ: لاَ غِرَارَ فِی تَسْلِیمٍ وَلاَ صَلاَۃٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۹۲۸]
(٣٤١١) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز اور سلام کا جواب دینے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔
(ب) امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں : سلام کے متعلق غرار سے مراد یہ ہے کہ حالت نماز میں تو کسی کو سلام کر اور نہ کوئی تجھے سلام کرے اور نماز کے متعلق غرار یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز سے فارغ ہو، پھر شک میں پڑجائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار ؟ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے بھی یہی الفاظ منقول ہیں کہ نماز اور سلام کا جواب دینے میں سستی نہ ہونے پائے۔
(د) احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ ہے کہ دوران نماز نہ تم کسی کو سلام کرو نہ کوئی تمہیں سلام کرے اور نماز میں غرار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر سلام پھیر لے لیکن وہ نماز کے بارے شک میں مبتلا ہو۔ یہ احمد بن حنبل کی تفسیر کے مطابق ہے۔
(ہ) ایک قول کے مطابق ” لاغرار فی تسلیم ولاصلاۃ “ ہے۔