(۳۴۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی دَاوُدَ وَہُوَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ أَبِی غَطَفَانَ الْمُرِّیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((التَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسْوَانِ ، وَمَنْ أَشَارَ فِی صَلاَتِہِ إِشَارَۃً تُفْہَمُ عَنْہُ فَلْیُعِدْہَا))۔قَالَ عَلِیٌّ قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِی دَاوُدَ: أَبُو غَطَفَانَ ہَذَا رَجُلٌ مَجْہُولٌ۔وَآخِرُ الْحَدِیثِ زِیَادَۃٌ فِی الْحَدِیثِ فَلَعَلَّہُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔وَالصَّحِیحُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- :أَنَّہُ کَانَ یُشِیرُ فِی الصَّلاَۃِ۔رَوَاہُ أَنَسٌ وَجَابِرٌ وَغَیْرُہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔قَالَ عَلِیٌّ: وَرَوَاہُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۹۴۴]
(٣٤٢٠) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کے لیے نماز میں ” سبحان اللہ “ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔ جو شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جس کا کوئی مفہوم تو اشارہ کرنے والا نماز کو لوٹائے۔
(ب) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نماز میں اشارہ کرلیا کرتے تھے۔