hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3423

.

سنن البيهقي

3423
Sunan Al Bayhaqi
(۳۴۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ حَامِلٌ أَحَدَ ابْنَیْہِ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَیْنَ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَوَضَعَہُ عِنْدَ قَدَمِہِ الْیُمْنَی ، فَسَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَجْدَۃً أَطَالَہَا۔ قَالَ أَبِی فَرَفَعْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَاجِدٌ وَإِذَا الْغُلاَمُ رَاکِبٌ عَلَی ظَہْرِہِ ، فَعُدْتُ فَسَجَدْتُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ النَّاسُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ سَجَدْتَ فِی صَلاَتِکَ ہَذِہِ سَجْدَۃً مَا کُنْتَ تَسْجُدُہَا أَفَشَیْئٌ أُمِرْتَ بِہِ أَوْ کَانَ یُوحَی إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ ، إِنَّ ابْنِی ارْتَحَلَنِی فَکَرِہْتُ أَنْ أُعْجِلَہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہُ))۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی ۱۱۴۱]
(٣٤٢٣) عبداللہ بن شداد بن ہا د اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس اپنے نواسے حسن یا حسین (رض) کو اٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انھیں اپنے دائیں پاؤں کے قریب بٹھا دیا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا اور اس کو بہت طویل کردیا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو سجدے میں ہیں اور بچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیٹھ پر سوار ہے۔ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اللہ ! آپ نے اس نماز میں بہت ہی لمبا سجدہ کیا، اتنا لمبا سجدہ تو آپ نہیں کرتے، کیا دوران نماز آپ کو کوئی حکم دیا گیا یا آپ کی طرف وحی کی جا رہی تھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ بلکہ میرا بیٹا میرے اوپر سوار تھا، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں جلدی کروں اور وہ اپنا شوق پورا نہ کر پائے۔