(۳۴۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَرَأَ سُورَۃً طَوِیلَۃً ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ سُورَۃً أُخْرَی ، ثُمَّ رَکَعَ حِینَ قَضَاہَا وَسَجَدَ ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِکَ فِی الثَّانِیَۃِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَصَلُّوا حَتَّی یُفَرَّجَ عَنْکُمْ ، لَقَدْ رَأَیْتُ فِی مَقَامِی ہَذَا کُلَّ شَیْئٍ وُعِدْتُمْ ، حَتَّی لَقَدْ رَأَیْتُنِی أُرِیدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّۃِ حِینَ رَأَیْتُمُونِی جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ جَہَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا حِینَ رَأَیْتُمُونِی تَأَخَّرْتُ ، وَرَأَیْتُ فِیہَا عَمْرَو بْنَ لُحَیٍّ وَہُوَ الَّذِی سَیَّبَ السَّوَائِبَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح۔ سبأتی تخریجہ فی کتاب صلاۃ الکسوف]
(٣٤٣٤) عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : سورج گہن ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے لمبی سورت پڑھی، پھر دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دوسری سورت شروع کردی، پھر اس سورت کو مکمل کرنے کے بعد رکوع کیا پھر سجدہ کیا۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر فرمایا : یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم اس طرح کا کوئی کام دیکھو تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ تم سے دور کردی جائے۔ یقیناً میں نے اپنے اس قیام میں ہر وہ چیز دیکھی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں نے اپنے آپ کو بھی دیکھا جب تم مجھے آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے تو اس وقت میں جنت سے ایک خوشہ لینا چاہا تھا اور میں نے جہنم بھی دیکھی کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا تھا جس وقت تم مجھے پیچھے ہٹتا دیکھ رہے تھے اور جہنم میں میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا تھا، یہ وہی بدبخت ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی بدعت کی بنیاد ڈالی۔