(۳۴۳۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: کُنَّا نُقَاتِلُ الأَزَارِقَۃَ بِالأَہْوَازِ مَعَ الْمُہَلَّبِ بْنِ أَبِی صُفْرَۃَ - قَالَ - فَجَائَ أَبُو بَرْزَۃَ فَأَخَذَ بِمِقْوَدِ بِرْذَوْنِہِ أَوْ دَابَّتِہِ - قَالَ - فَبَیْنَمَا ہُوَ یُصَلِّی إِذْ أَفْلَتَ مِنْ یَدِہِ ، فَمَضَتِ الدَّابَّۃُ فِی قِبْلَتِہِ ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَرْزَۃَ حَتَّی أَخَذَہَا ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَہْقَرَی ، فَقَالَ رَجُلٌ وَکَانَ یَرَی رَأْیَ الْخَوَارِجِ: انْظُرُوا إِلَی ہَذَا الشَّیْخِ - وَنَالَ مِنْہُ - إِنَّہُ تَرَکَ صَلاَتَہُ ، وَانْطَلَقَ إِلَی دَابَّتِہِ۔
قَالَ: فَأَقْبَلَ أَبُو بَرْزَۃَ لَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ فَقَالَ: إِنِّی غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَبْعَ غَزَوَاتٍ - أَوْ قَالَ مَرَّاتٍ - وَأَنَا شَیْخٌ کَبِیرٌ ، وَلَوْ أَنَّ دَابَّتِی ذَہَبَتْ إِلَی مَأْلَفِہَا شَقَّ ذَلِکَ عَلَیَّ ، فَصَنَعْتُ مَا رَأَیْتُمْ۔
قَالَ فَقُلْنَا لِلرَّجُلِ: مَا أَرَی اللَّہَ إِلاَّ یَجْزِیکَ سَبَبْتَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٣٨) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم ” اہواز “ میں مہلب بن ابی حضرہ کے ساتھ خارجیوں سے لڑ رہے تھے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) تشریف لائے، وہ اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھے، آپ نماز پڑھنے لگے اچانک سواری آپ کے ہاتھوں سے نکل کر قبلہ رخ چل پڑی، ابوبرزہ (رض) بھی اس کے پیچھے چل پڑے حتیٰ کہ اس کو پکڑ لیا۔ پھر الٹے پاؤں واپس پلٹے تو ایک خارجی کہنے لگا : اس بوڑھے کو دیکھو نماز چھوڑ کر سواری کو پکڑنے لگا ہے۔ ازرق کہتے ہیں : جب ابوبرزہ (رض) نے نماز مکمل کی تو اس کے پاس آکر کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات جنگیں لڑیں ہیں اور میں بوڑھا ہوں، اگر میری یہ سواری بھی چلی جاتی تو میں مصیبت میں پڑجاتا۔ اس لیے میں نے یہ کام کیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ ازرق کہتے ہیں : ہم نے اس آدمی کو کہا : تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی کو گالی دی ہے اللہ ضرور تجھے اس کا بدلہ دے گا۔