(۳۴۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ قَیْسٍ قَالَ: کُنَّا بِالأَہْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِیَّۃَ ، فَبَیْنَا أَنَا عَلَی جُرُفِ نَہَرٍ إِذَا رَجُلٌ یُصَلِّی ، وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِہِ بِیَدِہِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّۃُ تُنَازِعُہُ ، وَجَعَلَ یَتْبَعُہَا۔
قَالَ شُعْبَۃُ: ہُوَ أَبُو بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیُّ۔قَالَ: وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ یَقُولُ: اللَّہُمَّ افْعَلْ بِہَذَا الشَّیْخِ۔فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّیْخُ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ قَوْلَکُمْ ، وَإِنِّی قَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ ثَمَانِ غَزَوَاتٍ ، وَشَہِدْتُ تَیْسِیرَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلأَنْ کُنْتُ أَرْجِعُ مَعَ دَابَّتِی أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَدَعَہَا تَذْہَبُ إِلَی مَأْلَفِہَا فَیَشُقَّ عَلَیَّ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۵۳]
(٣٤٣٧) (ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز (وہ بستیاں جو ایران اور بصرہ کے درمیان ہیں) میں خارجیوں سے لڑ رہے تھے، میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ اسلمی (رض) ) گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لیے نماز پڑھنے لگے گھوڑان کو کھینچنے لگا اور وہ اس کے پیچھے جانے لگے۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں : وہ شخص ابو برزہ اسلمی (رض) تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا : اے اللہ ! اس بوڑھے کا ناس کر جو نماز چھوڑ کر گھوڑے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے مردود خارجیو ! میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چھ، سات یا آٹھ غزوے کیے ہیں اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آسانی دیکھ چکا ہوں جو آپ لوگوں پر کرتے تھے اور مجھے تو یہ پسند ہے کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چاہے چل دے اور بعد میں میں تکلیف محسوس کروں۔