(۳۴۴۰) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ أُمِّ کُلْثُومِ بِنْتِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِی الْبَیْتِ ، فَجَائَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللَّہُ تَعَالَی وَجْہَہُ فَدَخَلَ ، فَلَمَّا رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی قَامَ إِلَی جَانِبِہِ یُصَلِّی - قَالَ - فَجَائَ تْ عَقْرَبٌ حَتَّی انْتَہَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ تَرَکَتْہُ ، وَأَقْبَلَتْ إِلَی عَلِیٍّ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَلِیٌّ ضَرَبَہَا بِنَعْلِہِ ، فَلَمْ یَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِقَتْلِہِ إِیَّاہَا بَأْسًا۔
[ضعیف۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط ۱۶۵۳]
(٣٤٤٠) زوجہ رسول ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں نماز ادا کر رہے تھے کہ علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے۔ انھوں نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ بھی آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اتنے میں ایک بچھو نمودار ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا ۔ آپ کو چھوڑ کر علی (رض) کی طرف آگیا، جب سیدنا علی (رض) نے یہ ماجرا دیکھا تو اسے اپنے جوتے کے ساتھ مار ڈالا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قتل کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔