(۳۴۴۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالاَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ: بَیْنَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِی نَتَذَاکَرُ حَدِیثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ: أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَرَأَیْتُ مِنْہُ۔قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِی سَعِیدٍ نُصَلِّی یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلَی شَیْئٍ یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ إِذْ دَخَلَ شَابٌّ مِنْ بَنِی أَبِی مُعَیْطٍ أَرَادَ أَنْ یَجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَدَفَعَ نَحْرَہُ فَنَظَرَ فَلَمْ یَرَ مَسَاغًا إِلاَّ بَیْنَ یَدَیْ أَبِی سَعِیدٍ ، فَأَعَادَ فَدَفَعَ فِی نَحْرِہِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَۃِ الأُولَی ، فَمَثَلَ قَائِمًا وَنَالَ مِنْ أَبِی سَعِیدٍ ، ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ ، فَدَخَلَ عَلَی مَرْوَانَ فَشَکَا إِلَیْہِ مَا لَقِیَ ، قَالَ وَدَخَلَ أَبُو سَعِیدٍ عَلَی مَرْوَانَ فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ مَا لَکَ وَلاِبْنِ أَخِیکَ جَائَ یَشْتَکِیکَ۔فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ إِلَی شَیْئٍ یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ یَجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلْیَدْفَعْ فِی نَحْرِہِ ، فَإِنْ أَبَی فَلْیُقَاتِلْہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۸۷]
(٣٤٤٧) حمید بن ہلال سے روایت ہے کہ میں اور ایک صاحب ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے۔ اچانک ابوصالح نے کہا : میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابوسعید خدری (رض) سے سنی ہے اور انھیں اس پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ ابوسعید خدری (رض) کے ساتھ ہم سترے کی آڑ میں جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو معیط قبیلے کا ایک شخص آیا اور ابو سعید خدری (رض) کے سامنے سے گزرنے لگا تو انھوں نے اس کو پیچھے کیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ۔ اسے کوئی اور جگہ نظر نہ آئی سوائے ابوسعید خدری (رض) کے سامنے کے۔ وہ پھر پلٹ کر آیا اور گزرنے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کو مزید سختی سے روکا تو اس نے پہلے کی طرح کوشش کی اور ابوسعید (رض) کے پاس پہنچ گیا، پھر لوگوں کی بھیڑ ہوئی تو وہ نکل گیا۔ اس نے مروان کو شکایت کی۔ (مروان اس وقت مدینہ کا امیر تھا) سیدنا ابوسعید خدری (رض) مروان کے پاس گئے تو مروان نے کہا : تمہارا اپنے بھتیجے کے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟ یہ تمہارے بارے میں شکایت لے کر آیا ہے تو ابوسعید خدری (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص سترا رکھ کر نماز پڑھے، پھر کوئی شخص (اس کے سامنے سے) گزرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کو گزرنے سے روکے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس کو سختی سے روکے۔ وہ تو شیطان ہے۔