(۳۴۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ: أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی مُعَیْطٍ فَمَنَعَہُ ، فَأَبَی أَنْ یَنْتَہِیَ فَنَبَذَہُ ، فَأَبَی فَدَفَعَ فِی صَدْرِہِ وَمَرْوَانُ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَشَکَا ذَلِکَ إِلَیْہِ فَذَکَرَ ذَلِکَ مَرْوَانُ لأَبِی سَعِیدٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا مَرَّ بَیْنَ یَدَیْ أَحَدِکُمْ شَیْئٌ وَہُوَ یُصَلِّی فَلْیَمْنَعْہُ ، فَإِنْ أَبِی فَلْیُقَاتِلْہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ))۔وَإِنِّی قَدْ کُنْتُ نَہَیْتُہُ فَأَبَی أَنْ یَنْتَہِیَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ مَضْمُومًا إِلَی ذَلِکَ الإِسْنَادِ ، وَذَلِکَ مِنْہُ تَجَوَّزٌ إِلاَّ أَنَّہُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَفْرَدَہُ بِالذِّکْرِ عَلَی لَفْظِہِ فِی کِتَابِ بَدْئِ الْخَلْقِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٤٨) ابو صالح سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری (رض) نماز ڑھ رہے تھے کہ آل ابی معیط کا ایک شخص آپ کے سامنے سے گذرنے لگا تو آپ نے اس کو روکا۔ اس نے رکنے سے انکار کیا تو ابوسعید خدری (رض) نے اس کو دھکا دیا تو اس نے انکار کردیا تو انھوں نے اس کے سینے پر مارا۔ ان دنوں مروان مدینہ کا والی تھا۔ اس شخص نے مروان کو آپ کی شکایت کی تو مروان نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے اس بات کا تذکرہ کیا تو حضرت ابوسعید خدری (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کو روکے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے اور میں اس کو روک رہا تھا اور یہ رکنے سے انکاری تھا۔