(۳۴۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ: أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَہُ إِلَی أَبِی جُہَیْمٍ یَسْأَلُہُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَارِّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّی؟ قَالَ أَبُو جُہَیْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْ یَعْلَمُ الْمَارُّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّی مَاذَا عَلَیْہِ لَکَانَ أَنْ یَقِفَ أَرْبَعِینَ خَیْرًا لَہُ مِنْ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ))۔قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لاَ أَدْرِی قَالَ أَرْبَعِینَ یَوْمًا أَوْ شَہْرًا أَوْ سَنَۃً۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری: ۴۸۸]
(٣٤٥٢) بسر بن سعید (رح) بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی نے انھیں ابو جہیم (رض) کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے ؟ ابوجہیم (رض) نے جواب دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہوجائے کہ ایسا کرنے سے اسے کس قدر گناہ ہوگا تو وہ نمازی کے سامنے سے گذرنے پر چالیس کے قیام کو ترجیح دے۔ ابو نصر (رح) فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے چالیس دن، چالیس ماہ یا چالیس سال کا ذکر کیا۔