(۳۴۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ قِیلَ لَہَا: إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ الصَّلاَۃَ یَقْطَعُہَا الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ۔ قَالَتْ: أَلاَ أُرَاہُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْکِلاَبِ وَالْحَمِیرِ ، وَرُبَّمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِاللَّیْلِ ، وَأَنَا عَلَی السَّرِیرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ ، فَیَکُونُ لِی حَاجَۃٌ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَیِ السَّرِیرِ کَرَاہِیَۃَ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ بِوَجْہِی۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٩٨) اسود (رح) بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں : کتا، گدھا اور عورت (سامنے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں تو انھوں نے فرمایا : ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے، میں نے کئی مرتبہ رات کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا اور میں چار پائی پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ مجھے کوئی حاجت ہوتی تو چپکے سے چار پائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک کر نکل جاتی، اس بات کو ناپسند سمجھتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھیر لوں۔