(۳۵۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ إِذَا ہَوَی یَسْجُدُ یَمْسَحُ الْحَصَی لِمَوْضِعِ جَبْہَتِہِ مَسْحًا خَفِیفًا۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الْقَدْرُ ہُوَ الْمُرَخَّصُ فِیہِ ، وَإِنَّمَا الْکَرَاہِیَۃُ فِی الْعَبَثِ بِہِ ، وَلَوْ سَوَّاہُ قَبْلَ الدُّخُولِ فِی الصَّلاَۃِ کَمَا فَعَلَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ أَوْلَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ: أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً یَعْبَثُ بِالْحَصَی فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ ہَذَا خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۳۷۱]
(٣٥٥٠) (ا) ابوجعفر قاری سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا، جب وہ سجدے کے لیے جھکتے تو اپنے سجدے والی جگہ سے کنکریاں ہٹانے کے لیے معمولی سا عمل کرتے۔
(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انھیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان (رض) کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ وباللہ التوفیق
(ج) سعید بن مسیب کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انھوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا : اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔