(۳۵۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْخُرَاسَانِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ حُمَیْدٍ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ إِذْ جَائَ ہُ الزُّبَیْرُ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: قَدْ أَفْسَدَ وَجْہَہُ ، وَاللَّہِ مَا ہِیَ سِیمَائُ ، وَاللَّہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ عَلَی وَجْہِی مُذْ کَذَا وَکَذَا ، مَا أَثَّرَ السُّجُودُ فِی وَجْہِی شَیْئًا۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۶۶۸]
(٣٥٥٩) حمید ابن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ہم سائب بن یزید کے پاس تھے، اچانک ان کے پاس زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا اس نے اپنا چہرہ خراب کردیا ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ (وہ) نشان نہیں ہے۔ اللہ کی قسم میں نے اتنی اتنی نمازیں پڑھیں لیکن میرے چہرے میں سجدوں نے کوئی نشان نہیں چھوڑا۔