(۳۵۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ فَضْلٍ الضَّبِّیُّ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِمُجَاہِدٍ {سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ۲۹] أَہُوَ أَثَرُ السُّجُودِ فِی وَجْہِ الإِنْسَانِ؟ فَقَالَ: لاَ إِنَّ أَحَدَہُمْ یَکُونُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مِثْلُ رُکْبَۃِ الْعَنْزِ وَہُوَ کَمَا شَائَ اللَّہُ یَعْنِی مِنَ الشَّرِّ وَلَکِنَّہُ الْخُشُوعُ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ ثَعْلَبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی مُغِیرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: نَدَی الطَّہُورِ وَثَرَی الأَرْضِ۔
[صحیح۔ اخرجہ الطبری فی لغیرہ ۱۱/ ۳۶۹]
(٣٥٦٠) منصور بیان کرتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے پوچھا { سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ } [الفتح : ٢٩] ” ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کی وجہ سے ہے “ کیا اس سے مراد انسان کے چہرے میں سجدوں کے نشانات ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں ! تم میں سے کسی آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے کی طرح کوئی چیز ہو تو وہ جس طرح کہ اللہ چاہتا ہے شر ہوگا۔ لیکن وہ خشوع کی وجہ سے ہوگا۔
(ب) سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ شبنم کا پاک ہونا اور زمین کا گیلا ہونا۔