(۳۵۶۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ زَادَ فَقَالَ قُلْنَا لِہِشَامٍ: مَا الاِخْتِصَارُ؟ قَالَ: یَضَعُ یَدَہُ عَلَی خَصْرِہِ وَہُوَ یُصَلِّی۔
وَرَوَی سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعْنَی ہَذَا التَّفْسِیرِ۔[صحیح۔ اخرجہ احمد ۲/ ۲۹۰]
(٣٥٦٥) (ا) امام احمد کی سند سے اسی کی مثل حدیث منقول ہے، لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے ہشام سے پوچھا : اختصار کیا ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : دوران نماز آدمی اپنا ہاتھ کو لہوں پر رکھے۔
(ب) ابوہریرہ (رض) بھی اسی طرح تفسیر کرتے ہیں۔