(۳۵۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ صُبَیْحٍ قَالَ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَنَا لاَ أَعْرِفُہُ ، فَوَضَعْتُ یَدِی عَلَی خَاصِرَتِی فَنَحَّی یَدِی ، فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلاَۃَ قُلْتُ: مَا أَرَدْتَ إِلَیَّ؟ قَالَ: أَنْتَ ہُوَ أَنْتَ ہُوَ - قَالَ - إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَنْہَی عَنِ الصَّلْبِ فِی الصَّلاَۃِ۔ (ت) وَرَوَاہُ مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سَعِیدٍ وَقَالَ: عَنِ التَّخَصُّرِ فِی الصَّلاَۃِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ وَابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُمَا کَرِہَا ذَلِکَ۔ [جید۔ اخرجہ ابوداود ۹۰۳]
(٣٥٦٨) زیاد بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں انھیں پہچانتا تھا۔ میں نے نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ میں رکھا تو انھوں نے میرے ہاتھ کو دھکا دیا۔ جب میں نے نماز مکمل کی تو عرض کیا : تمہیں مجھ سے کیا سروکار تھا ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : تو نے اس طرح کیا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں سولی سے منع فرماتے تھے۔
(ب) اس حدیث کو مکی بن ابراہیم سعید سے روایت کرتے ہیں اور وہ نماز میں کو لہوں پر ہاتھ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
(ج) سیدہ عائشہ اور ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ دونوں اس کو مکروہ کہتے تھے۔