hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 360

.

سنن البيهقي

360
Sunan Al Bayhaqi
(۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِیسَ الْحَنْظَلِیُّ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّی یَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِکًا یُسْأَلُ عَنْ تَخْلِیلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَیْنِ فِی الْوُضُوئِ فَقَالَ: لَیْسَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ قَالَ فَتَرَکْتُہُ حَتَّی خَفَّ النَّاسُ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ سَمِعْتُکَ تُفْتِی فِی مَسْأَلَۃٍ فِی تَخْلِیلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَیْنِ زَعَمْتَ أَنَّ لَیْسَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ وَعِنْدَنَا فِی ذَلِکَ سُنَّۃٌ۔ فَقَالَ: وَمَا ہِیَ؟ فَقُلْتُ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ لَہِیعَۃَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیِّ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْقُرَشِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَدْلُکُ بِخِنْصَرِہِ مَا بَیْنَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ۔ فَقَالَ: إِنَّ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ ، وَمَا سَمِعْتُ بِہِ قَطُّ إِلاَّ السَّاعَۃَ۔ ثُمَّ سَمِعْتُہُ یُسْأَلُ بَعْدَ ذَلِکَ ، فَأَمَرَ بِتَخْلِیلِ الأَصَابِعِ۔ قَالَ عَمِّی: مَا أَقَلَّ مَنْ یَتَوَضَّأُ إِلاَّ وَیُخْطِئُہُ الْخَطُّ الَّذِی تَحْتَ الإِبْہَامِ فِی الرِّجْلِ ، فَإِنَّ النَّاسَ یَثْنُونَ إِبْہَامَہُمْ عِنْدَ الْوُضُوئِ ، فَمَنْ تَفَقَّدَ ذَلِکَ سَلِمَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی حاکم فی مقدمۃ الجرح والتحدیل ۱/۳۱]
(٣٦١) ابن عبد الرحمن بن وھب کہتے ہیں : میں نے اپنے چچا سے سنا اور انھوں نے مالک سے سنا کہ ان سے وضو میں پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : یہ لوگوں پر (فرض) نہیں ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے اس کو چھوڑ دیا، لوگوں نے اس کو ہلکا سمجھا، میں نے ان سے کہا : اے عبداللہ ! میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ لوگوں پر فرض نہیں ہے جبکہ ہمارے پاس اس بارے میں حدیث پاک موجود ہے۔ اس نے کہا : وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : مستورد بن شداد قرشی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اپنی چھوٹی انگلی سے ملتے تھے۔ انھوں نے فرمایا : بلاشبہ یہ اچھی بات ہے اور میں نے ان سے صرف اسی وقت سنا، پھر میں نے اس کے بعد سنا۔ ان سے سوال کیا گیا تو انھوں نے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کا حکم دیا۔ میرے چچا فرماتے ہیں : کم ہی ایسے لوگ ہیں جو وضو کرتے ہیں، ان سے پاؤں کے انگوٹھے کی نچلی جانب خط برابر جگہ نہ رہ جائے کیونکہ عام لوگ وضو کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے موڑ لیتے ہیں تو جس نے اس کا خلال کیا وہ اس غلطی سے بچ گیا۔