(۳۶۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَکِّیٌّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَۃِ فَلاَ یَسْعَیَنَّ إِلَیْہَا أَحَدُکُمْ ، وَلَکِنْ لِیَمْشِ عَلَیْہِ السَّکِینَۃُ وَالْوَقَارُ ، صَلِّ مَا أَدْرَکْتَ وَاقْضِ مَا سُبِقْتَ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ فُضَیْلِ بْنِ عِیَاضٍ وَابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔
وَرَوَاہُ أَبُو رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَی ہَذَا۔ وَالَّذِینَ قَالُوا: فَأَتِمُّوا۔ أَکْثَرُ وَأَحْفَظُ وَأَلْزَمُ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَہُوَ أَوْلَی ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۰۲]
(٣٦٢٩) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اقامت ہوجائے تو کوئی بھی نماز کے لیے دوڑ کر نہ آئے بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چل کر آئے۔ جو پالے اس کو پڑھ لے اور جو گزر چکی ہے اس کو پورا کرلے۔
(ب) حضرت ابورافع (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ جو لوگ فاتموا (پورا کرو) نقل کرتے ہیں وہ زیادہ ہیں اور حافظ ہیں۔ لہٰذا حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت زیادہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم