(۳۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ سَمِعَ جَلَبَۃَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّی دَعَاہُمْ فَقَالَ : ((مَا شَأْنُکُمْ؟))۔ قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ : ((فَلاَ تَفْعَلُوا إِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلاَۃَ فَعَلَیْکُمُ السَّکِینَۃُ ، فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سَلاَّمٍ وَشَیْبَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ کَذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۰۹]
(٣٦٣٠) سیدنا ابوقتادہ (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کا شور وغل سنا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو انھیں بلا کر پوچھا : تمہیں کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : ہم نے نماز جلدی ادا کرلی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو تمہارے اوپر اطمینان اور سکون طاری ہو، جتنی نماز (جماعت کے ساتھ) پالو پڑھ لو اور جو رہ گئی ہو اس کو پورا کرلو۔