(۳۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الدِّیلِ یُقَالُ لَہُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِیہِ مِحْجَنٍ: أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأُذِّنَ بِالصَّلاَۃِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِی مَجْلِسِہِ کَمَا ہُوَ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟))۔ قَالَ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَلَکِنِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ کُنْتُ صَلَّیْتُ فِی أَہْلِی۔ قَالَ : ((فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ ، وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۲۰۹۶]
(٣٦٣٨) حضرت بسر بن محجن (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے، نماز کے لیے اذان کہی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی۔ پھر لوٹے تو حضرت محجن (رض) آپ کی مجلس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کہا : تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کون سی چیز نے روکا ہے ؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! لیکن میں نے اپنے گھر نماز پڑھ لی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو اگرچہ تم نے نماز پڑھ لی ہو۔