(۳۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَفِیفِ بْنِ عَمْرٍو السَّہْمِیِّ۔ عَنْ رَجُلِ مِنْ بَنِی أَسَدٍ: أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ ، فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ: نَعَمْ ، مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَإِنَّ لَہُ سَہْمَ جَمْعٍ أَوْ مِثْلَ سَہْمِ جَمْعٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک ۲۹۹]
(٣٦٤٢) ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد کو آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پاتا ہوں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کروں ؟ تو حضرت ابو ایوب (رض) نے فرمایا : ہاں پڑھ لیا کرو، جو اس طرح کرے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے یا فرمایا : تمام نمازیوں کے برابر ثواب ہے۔