(۳۶۵۰) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ، ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی ، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: نَعَمْ۔ قَالَ الرَّجُلُ: فَأَیَّتَہُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِی؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: وَأَنْتَ تَجْعَلُہَا إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللَّہِ یَجْعَلُ أَیَّتَہُمَا شَائَ۔ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ لِحَدِیثِ أَبِی ذَرٍّ وَیَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ أَنَّہُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ إِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ: الْمَکْتُوبَۃُ الأُولَی۔ فَکَأَنَّہُ بَلَغَہُ فِی ذَلِکَ مَا لَمْ یَبْلُغْہُ حِینَ لَمْ یَقْطَعْ فِیہَا بِشَیْئٍ ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۲۹۸]
(٣٦٥٠) (ا) حضرت یحییٰ بن سعید (رح) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن مسیب (رح) سے پوچھا : میں گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھتے پاتا ہوں تو کیا میں امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں ؟ حضرت سعید بن مسیب (رح) نے فرمایا : ہاں۔ اس نے پھر عرض کیا : میں ان میں سے کس کو فرض سمجھوں ؟ حضرت سعید (رح) نے فرمایا : کیا تو اس کو بنا سکتا ہے ؟ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے ان میں سے جسے چاہے بنا دے۔
(ب) پہلا قول حضرت ابوذر (رض) اور حضرت یزید بن اسود (رض) کی حدیث کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔
(ج) حضرت عثمان بن عبیداللہ بن ابی رافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے نماز کو لوٹانے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : پہلی فرض شمار ہوگی۔