(۳۶۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی ، ثُمَّ أُدْرِکُ الصَّلاَۃَ مَعَ الإِمَامِ ، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: نَعَمْ فَصَلِّ مَعَہُ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: فَأَیَّتَہُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِی؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: وَذَلِکَ إِلَیْکَ؟ إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی یَجْعَلُ أَیَّتَہُمَا شَائَ۔
[صحیح اخرجہ مالک ۹۹۷]
(٣٦٤٩) حضرت نافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر جماعت کے ساتھ نماز ہو رہی ہوتی ہے تو کیا میں امام کے ساتھ نماز پڑھ لوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : ہاں امام کے ساتھ پڑھ لو۔ اس نے کہا : ان میں سے کونسی نماز کو میں فرض نماز بناؤں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : کیا یہ تیرے اختیار میں ہے ؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جس کو چاہے فرض قرار دے۔