(۳۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُودُہُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَصَلَّی قَاعِدًا ، فَصَلَّیْنَا قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِینَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ سُفْیَانُ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ وَأَخْرَجَا ہَذِہِ الْقَصَّۃَ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۷۱]
(٣٦٥٥) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے پر سوار ہوئے تو گرگئے اور آپ کے داہنے پہلو پر خراشیں آگئیں۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کے لیے گئے۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز ادا کی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام صرف اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔