(۳۶۵۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ بِلاَلٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُومُ مَقَامَکَ لاَ یُسْمِعِ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ۔ قَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَۃَ: قُولِی لَہُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُومُ مَقَامَکَ لاَ یُسْمِعُ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ۔ فَقَالَتْ لَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّکُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ))۔ قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَکْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً - قَالَتْ - فَقَامَ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلاَہُ تَخُطَّانِ فِی الأَرْضِ - قَالَتْ- فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُوبَکْرٍ حِسَّہُ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ، فَأَوَمَأَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قُمْ مَکَانَکَ، فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی جَلَسَ عَنْ یَسَارِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ: فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِالنَّاسِ جَالِسًا ، وَأَبُوبَکْرٍ قَائِمًا یَقْتَدِی أَبُو بَکْرٍ بِصَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَقْتَدِی النَّاسُ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۳]
(٣٦٥٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو حضرت بلال (رض) آئے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) کمزور دل والے ہیں وہ کیسے آپ کی جگہ پر کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرآن) سنا سکیں گے۔ اگر آپ عمر (رض) کو حکم دے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے حضرت حفصہ (رض) سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہو کہ ابوبکر (رض) نرم دل ہیں، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرائت) سنا پائیں گے، آپ اگر حضرت عمر (رض) کو کہہ دیں تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تو یوسف والیوں کی طرح ہو، چلو جاؤ ابوبکر (رض) سے کہو۔ چنانچہ انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب آپ (رض) نے نماز شروع کردی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کا سہارا لیتے ہوئے نکل پڑے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ٹانگیں زمین پر لگ رہی تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کو محسوس کیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اشارہ کر کے کہا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور حضرت ابوبکر (رض) کی بائیں جانب جا بیٹھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر (رض) کھڑے ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر (رض) کی اقتدا کر رہے تھے۔