(۳۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ لاَحِقِ بْنِ حُمَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ فَقَالَ: أَمَّا نِسَاؤُنَا فَیَخْتَضِبْنَ مِنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ نَظَّفْنَ أَیْدِیَہُنَّ فَتَطَہَّرْنَ ، ثُمَّ یَعُدْنَ عَلَیْہِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ إِلَی صَلاَۃِ الظُّہْرِ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ ، وَلاَ یَمْنَعُہُنَّ ذَلِکَ مِنَ الصَّلاَۃِ۔ [صحیح]
(٣٦٧) لاحق بن حمید فرماتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عباس (رض) سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : ہماری عورتیں عشا کی نماز سے صبح کی نماز تک خضاب لگاتی تھیں، پھر اپنے ہاتھوں کو صاف کرتیں، پھر وضو کرتیں اور صبح کی نماز سے ظہر کی نماز تک دوبارہ اپنے خضاب کے ساتھ لوٹ آتیں اور یہ چیز ان کو نماز سے نہیں روکتی تھی۔