(۳۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا الْعَالِیَۃِ حَدَّثَہُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ: أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسِ عَنِ الْخِضَابِ۔
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُخْبِرُکَ کَیْفَ تَخْتَضِبُ نِسَاؤُنَا یُصَلِّینَ یَعْنِی الْعِشَائَ ، ثُمَّ یَرْکَبْنَ الْخِضَابَ فَیَنَمْنَ ، فَإِذَا کَانَ صَلاَۃُ الصُّبْحِ نَزَعْنَہُ فَتَوَضَّئْنَ وَصَلَّیْنَ ثُمَّ رَکِبْنَہُ ، فَإِذَا کَانَ صَلاَۃُ الظُّہْرِ نَزَعْنَہُ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ ، لاَ یُشْغَلْنَ عَنْ وُضُوئٍ ، فَإِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ -ﷺ -کُنَّ یَخْتَضِبْنَ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔
[صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۹۳۰]
(٣٦٦) ابو العالیہ یا کسی اور شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے ابن عباس (رض) سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں آپ کو بتلاؤں گا کہ ہماری عورتیں کس طرح خضاب لگاتی تھیں، وہ عشا کی نماز پڑھتی تھیں، پھر خضاب لگاتیں پھر وہ سو جاتیں۔ جب صبح کی نماز ہوتی اس کو اتار دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، پھر اس کو لگا لیتیں، جب ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو اس کو اچھے خضاب کے ساتھ اتار دیتیں۔ یہ چیز ان کو وضو سے مشغول نہیں کرتی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات بھی عشا کی نماز کے بعد خضاب لگاتی تھیں۔