(۳۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیدَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: إِنَّ رِجَالاً یَقْرَأُ أَحَدُہُمُ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وا وَلَمْ یَقْرَئُ وا ، کُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی اللَّیْلِ التَّامِّ فَیَقْرَأُ بِالْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ ، فَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ دَعَا وَرَغَّبَ ، وَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخْوِیفٌ دَعَا وَاسْتَعَاذَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابو یعلی ۴۸۴۲]
(٣٦٨٨) حضرت مسلم بن مخراق (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے عرض کیا : کچھ لوگ ایک رات میں دو دو، تین تین مرتبہ مکمل قرآن پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پوری رات قیام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں۔ جب آپ کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو دعا اور رغبت کرتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں ڈرانا ہوتا تو بھی دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔