(۳۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ -فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ الطُّہُورُ؟ فَدَعَا بِمَائٍ فِی إِنَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ ، فَأَدْخَلَ إَصْبَعَیْہِ السَّبَّاحَتَیْنِ فِی أُذُنَیْہِ ، وَمَسَحَ بابہَامَیْہِ عَلَی ظَاہِرِ أُذُنَیْہِ ، وَبِالسَّبَّاحَتَیْنِ بَاطِنَ أُذُنَیْہِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ: ((ہَکَذَا الْوُضُوئُ ، فَمَنْ زَادَ عَلَی ہَذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَسَائَ وَظَلَمَ أَوْ ظَلَمَ وَأَسَائَ ))
(ق) قَوْلُہُ: نَقَصَ ۔ یُحْتَمَلُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ نُقْصَانَ الْعُضْوِ ، وَقَوْلُہُ: ظَلَمَ ۔ یَعْنِی جَاوَزَ الْحَدَّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[حسن دون قولہ أونقص]
(٣٧٤) سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وضو کس طرح ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا ایک برتن منگوایا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا تو اپنی دونوں سبابہ انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کیں اور اپنے انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے باہر والے حصے پر مسح کیا اور انگوٹھوں کے ساتھ اپنے کانوں کے باطنی حصوں پر بھی، پھر اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا : ” اس طرح وضو (کا طریقہ) ہے، جو اس سے زیادہ کرے یا کم کرے اس نے نافرمانی کی اور ظلم کیا یا فرمایا : ظلم کیا اور نافرمانی کی۔ “
(ب) نَقَصَمیں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد عضو کا نقصان ہے اور ظَلَمَ سے مراد اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز کرنا۔ واللہ اعلم۔