hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3752

.

سنن البيهقي

3752
Sunan Al Bayhaqi
(۳۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ خُنَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الدُّعَائِ : اللَّہُمَّ اکْتُبْ لِی عِنْدَکَ بِہَا أَجْرًا ، وَاجْعَلْہَا لِی عِنْدَکَ ذُخْرًا ، وَضَعْ عَنِّی بِہَا وِزْرًا ، وَاقْبَلْہَا مِنِّی کَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُدَ وَلَمْ یَقُلْ {ص} إِنَّمَا قَالَ: فَرَأَیْتُ کَأَنِّی قَرَأْتُ سَجْدَۃً فَسَجَدْتُ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ خُنَیْسٍ: کَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ یُصَلِّی بِنَا فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ ، وَکَانَ یَقْرَأُ السَّجْدَۃَ فَیَسْجُدُ ، فَیُطِیلُ السُّجُودَ ، فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ فَیَقُولُ قَالَ لِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی جَدُّکَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ بِہَذَا۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٧٥٢) (ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں : اللَّہُمَّ اکْتُبْ لِی عِنْدَکَ بِہَا أَجْرًا، وَاجْعَلْہَا لِی عِنْدَکَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّی بِہَا وِزْرًا، وَاقْبَلْہَا مِنِّی کَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُد۔” اے اللہ ! اس سجدے کے بدلے میں میرے لیے اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کے ذریعے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اسے مجھ سے اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبول کیا تھا۔ “ انھوں نے سورة صٓ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اتنا کہا : میں نے دیکھا کہ میں نے سجدہ والی آیت پڑھی تو میں نے سجدہ کیا۔
(ب) اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت محمد بن یزید بن خنیس (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید (رح) نے ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں مسجد حرام میں نماز پڑھائی۔ وہ سجدے والی آیت پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور سجدے کو لمبا کرتے تھے۔ انھیں اس بارے میں کہا گیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے حضرت ابن جریج (رح) نے فرمایا : مجھے تیرے دادا حضرت عبیداللہ بن ابی یزید (رح) نے اس بارے میں خبر دی۔