(۳۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَجَدَ فِی النَّجْمِ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلَیْنِ أَرَادَ أَنْ یُشْہَرَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَالرَّجُلاَنِ لاَ یَدَعَانِ إِنْ شَائَ اللَّہُ الْفَرْضَ، وَلَوْ تَرَکَاہُ أَمَرَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِإِعَادَتِہِ، وَأَمَّا حَدِیثُ زَیْدٍ فَہُوَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ زَیْدًا لَمْ یَسْجُدْ وَہُوَ الْقَارِئُ فَلَمْ یَسْجُدِ النَّبِیُّ -ﷺ- وَلَمْ یَکُنْ فَرْضًا فَیَأْمُرُہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِہِ۔
وَاحْتَجَّ بِمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی فَرْضِ خَمْسِ صَلَوَاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ))۔ [حسن۔ بدون قصہ الرجلین، قال ابن ابی حاتم فی العلل ۴۶۸]
(٣٧٥٤) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة نجم میں سجدہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو آدمیوں کے علاوہ باقی سب لوگوں نے سجدہ کیا۔ وہ دونوں مشہور ہیں۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں : وہ دو مرد فرض کو تو نہیں چھوڑ سکتے تھے ، اگر انھوں نے اس کو چھوڑ بھی دیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے اعادہ کا حکم ضرور دیا ہوگا۔
اور رہی حضرت زید بن ثابت (رض) کی حدیث تو حضرت زید (رض) پڑھنے والے تھے۔ جب قاری نے سجدہ نہیں کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نہیں کیا اور اگر فرض ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں بھی سجدہ کرنے کا حکم دیتے۔
امام شافعی (رح) نے پانچ نمازوں کی فرضیت کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گزشتہ حدیث سے استدلال کیا ہے، جس میں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ (ان پانچ نمازوں کے علاوہ) کوئی اور نماز بھی فرض ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : نہیں مگر یہ کہ تو نفلی عبادت کرے۔