(۳۷۵۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نَجِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ السَّجْدَۃَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَہُ ، ثُمَّ قَرَأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی فَتَہَیَّأُوا لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: عَلَی رِسْلِکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَکْتُبْہَا عَلَیْنَا إِلاَّ أَنْ نَشَائَ ۔ فَقَرَأَہَا وَلَمْ یَسْجُدْ وَمَنَعَہُمْ أَنْ یَسْجُدُوا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقِیلَ لِعِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ: الرَّجُلُ یَسْمَعُ السَّجْدَۃَ وَلَمْ یَجْلِسْ لَہَا۔ قَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْ قَعَدَ لَہَا؟ کَأَنَّہُ لاَ یُوجِبُہُ عَلَیْہِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ: حَقُّ اللَّہِ تُؤَدِّیہِ أَوْ تَطَوُّعٌ تَطَوَّعُہُ ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ حَطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً ، أَوْ جَمَعَہُمَا لَہُ کِلْتَیْہِمَا۔ [ضعیف۔ للانقطاع بن عروۃ وعمر، واللہ اعلم]
(٣٧٥٦) (ا) حضرت ہشام بن عروۃ (رح) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جمعہ کے دن منبر پر آیت سجدہ پڑھی تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ انھوں نے پھر دوسرے جمعہ یہی آیت سجدہ تلاوت کی، لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ذرا ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ سجدے فرض نہیں کیے بلکہ یہ ہماری منشا پر موقوف ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے آیت سجدہ پڑھی لیکن سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدے سے روک دیا۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمران بن حصین (رض) سے کسی نے کہا کہ کوئی آدمی آیت سجدہ سن لیتا ہے حالانکہ وہ اس کو سننے کے لیے نہیں بیٹھا تھا تو کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا : پھر تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسی کے لیے بیٹھا ہو تو پھر ؟ گویا وہ اس پر واجب نہیں کر رہے تھے۔
(ج) سیدنا ابن سیرین (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) سے کسی نے قران کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اللہ کا حق ہے اسے تم ادا کردو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفلی ہی رکھو اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک بھی سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے یا اس کام کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں کو جمع کردیتا ہے۔