(۳۷۸۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُوسٍ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ النُّمَیْرِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْکَعْبَۃَ مَشَی قِبَلَ وَجْہِہِ حِینَ یَدْخُلُ وَیَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ ظَہْرِہِ ، فَیَمْشِی حَتَّی یَکُونَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجِدَارِ الَّذِی قِبَلَ وَجْہِہِ قَرِیبٌ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَذْرُعٍ یُصَلِّی ، یَتَوَخَّی الْمَکَانَ الَّذِی أَخْبَرَہُ بِلاَلٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی فِیہِ ، وَلَیْسَ عَلَی أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ یُصَلِّی مِنْ أَیِّ نَوَاحِی الْبَیْتِ شَائَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِی ضَمْرَۃَ عَنْ مُوسَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۵۹۹]
(٣٧٨٤) حضرت موسیٰ بن عقبہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت نافع (رض) نے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر (رض) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دروازہ اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ چلتے گئے حتیٰ کہ ان میں اور سامنے والی دیوار میں تقریباً تین ہاتھ جگہ رہ گئی۔ سیدنا ابن عمر (رض) کو اس جگہ کی خواہش تھی جس کے بارے میں انھیں سیدنا بلال (رض) نے بتایا تھا کہ اس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی ہے۔ بیت اللہ کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، آدمی جس کونے میں چاہے نماز ادا کرسکتا ہے۔