(۳۷۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ فِیمَا قَرَأْتُ عَلَیْہِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَامَ الْفَتْحِ وَہْوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ عَلَی الْقَصْوَائِ ، وَمَعَہَ بِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ حَتَّی أَنَاخَ عِنْدَ الْبَیْتِ ، ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ : ائْتِنَا بِمِفْتَاحٍ ۔ فَجَائَ ہُ بِالْمِفْتَاحِ فَفَتَحَ لَہُ الْبَابَ ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأُسَامَۃُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ، فَمَکَثَ نَہَارًا طَوِیلاً ، ثُمَّ خَرَجَ وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ ، فَسَبَقْتُہُمْ فَوَجَدْتُ بِلاَلاً قَائِمًا وَرَائِ الْبَابِ فَقُلْتُ لَہُ: أَیْنَ صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ-؟ قَالَ: صَلَّی بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْمُقَدَّمَیْنِ۔ وَکَانَ الْبَیْتُ عَلَی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ شَطْرَیْنِ ، صَلَّی بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ مِنَ الشَّطْرِ الْمُقَدَّمِ ، وَجَعَلَ بَابَ الْبَیْتِ خَلْفَ ظَہْرِہِ ، فَاسْتَقْبَلَ بِوَجْہِہِ الَّذِی یَسْتَقْبِلُکَ حِینَ تَلِجُ الْبَیْتَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجِدَارِ۔ قَالَ: وَنَسِیتُ أَنْ أَسْأَلَہُ کَمْ صَلَّی ، وَعِنْدَ الْمَکَانِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ مَرْمَرَۃٌ حَمْرَائُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ سُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۰۰]
(٣٧٨٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصوا نامی اونٹنی پر حضرت اسامہ (رض) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت بلال اور عثمان ابن ابی طلحہ (رض) بھی تھے حتیٰ کہ سوار کو بیت اللہ کے پاس باندھ دیا گیا۔ پھر حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : چابی لاؤ۔ انھوں نے چابی لا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دروازہ کھول دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت اسامہ، بلال اور عثمان (رض) آپ کے ساتھ داخل ہوئے۔ پھر انھوں نے دروازہ بند کردیا اور دن کا بیشتر حصہ وہاں گزارا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے تو لوگ داخل ہونے کے لیے جلدی کرنے لگے، میں ان سب سے سبقت لے گیا وہاں میں نے حضرت بلال (رض) کو دروازے کے پیچھے کھڑے پایا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہاں نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : اگلے دو ستونوں کے درمیان اور بیت اللہ کے ان دنوں چھ ستون تھے، دونوں حصوں میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگلے نصف حصہ میں جو ستون ہیں ان کے درمیان نماز ادا کی اور بیت اللہ کا دروازہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیٹھ کی طرف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رخ انور اس طرف کیا جس طرف بیت اللہ میں داخل ہونے والا جب داخل ہوتا ہے تو اس کے بالکل سامنے جو جگہ آتی ہے وہاں اپنے اور دیوار کے درمیان نماز ادا کی۔
سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت بلال (رض) سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنی نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس جگہ نماز پڑھی تھی وہاں پر سرخ سنگ مرمر لگا ہوا تھا۔