hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3804

.

سنن البيهقي

3804
Sunan Al Bayhaqi
(۳۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ وَسَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ فَرَّقَہُمَا فِی مَوْضِعَیْنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ ہَلْ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الرَّجُلِ إِذَا نَسِیَ صَلاَتَہُ فَلَمْ یَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ مَا أَمَرَ بِہِ فِیہِ؟ قُلْتُ: وَمَا سَمِعْتَ أَنْتَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا فِی ذَلِکَ؟ قَالَ: لاَ وَاللَّہِ مَا سَمِعْتُ مِنْہُ فِیہِ شَیْئًا ، وَلاَ سَأَلْتُ عَنْہُ إِذْ جَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِیمَا أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرَہُ عُمَرُ فَقَالَ: سَأَلْتُ ہَذَا الْفَتَی عَنْ کَذَا وَکَذَا فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَہُ عِلْمًا۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَکِنْ عِنْدِی لَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ عِنْدَنَا الْعَدْلُ الرِّضَا ، فَمَاذَا سَمِعْتَ؟ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَشَکَّ فِی الْوَاحِدَۃِ وَالثِّنْتَیْنِ فَلْیَجْعَلْہُمَا وَاحِدَۃً ، وَإِذَا شَکَّ فِی الاِثْنَتَیْنِ وَالثَّلاَثِ فَلْیَجْعَلْہَا اثْنَتَیْنِ ، وَإِذَا شَکَّ فِی الثَّلاَثِ وَالأَرْبَعِ فَلْیَجْعَلْہَا ثَلاَثًا ، حَتَّی یَکُونَ الْوَہَمُ فِی الزِّیَادَۃِ یَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ یُسَلِّمَ))۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ کَمَا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱۶۵۹]
(٣٨٠٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انھوں نے کہا : اے ابن عباس ! کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کا کوئی مسئلہ سنا ہے اس شخص کے بارے میں جو اپنی نماز میں بھول جائے اسے پتا نہ چلے کہ اس نے نماز میں کوئی زیادتی کی ہے یا کمی کی ہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا ؟ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں ! اللہ کی قسم ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں میں نے پوچھا ہے۔ اچانک حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا : تم کس مسئلہ میں پھنسے ہوئے ہو ؟ تو حضرت عمر (رض) نے ان کے سامنے وہ بات رکھ دی کہ میں نے اس نوجوان سے فلاں فلاں مسئلہ کے بارے میں پوچھا لیکن مجھے اس کے پاس سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : لیکن میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سنا ہوا ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ تو ہمارے نزدیک منصف اور پسندیدہ شخصیت ہیں تو آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا سنا ہے ؟ تو حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اس کو ایک اور دو رکعتوں میں شک ہوجائے تو ایک کو شمار کرے اور جب اسے دو یا تین میں شک ہوجائے تو ان کو دو سمجھے اور اگر تین اور چار (رکعتوں) میں شک پڑجائے تو انھیں تین بنا دے، جب وہم زیادہ میں ہو۔ سلام سے پہلے دو سجدے کرلے پھر سلام پھیر دے۔