(۳۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: مَا قَرَأْتَ۔ قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا۔ قَالَ: فَلاَ بَأْسَ إِذًا۔
وَہَذَا عَلَی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ فِی الْقَدِیمِ مَحْمُولٌ عَلَی الْقِرَائَ ۃِ الْوَاجِبَۃِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ وَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ ، فَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِکَ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ ، أَوْ عَلَی الإِسْرَارِ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیمَا کَانَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَجْہَرَ بِہَا۔ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ أَعَادَہَا وَذَلِکَ یَرِدُ فِی بَابِ أَقَلِّ مَا یُجْزِئُ إِنَ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۳۸]
(٣٨٦٢) (ا) ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہ کی ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا : آپ نے قراءت نہیں کی تو انھوں نے فرمایا : رکوع و سجود کیے تھے ؟ اس نے کہا : بہت اچھے۔ انھوں نے فرمایا : تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(ب) یہ امام شافعی (رح) کے قدیم قول پر ہے اور اس کو قراءت واجبہ پر محمول کیا جائے گا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہاں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے سہو کے لیے سجدہ کیا اور نماز نہیں لوٹائی اور یہ انھوں نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں کیا ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ (سورة فاتحہ کے علاوہ) زائد سورت پر محمول ہے یا جن نمازوں میں جہری قرات کرنی چاہیے ان میں سری قراءت پر محمول ہے۔
(د) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نماز دوبارہ پڑھی۔ اس موضوع پر احادیث ” باب اقل ما یجزی “ میں آئیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ