(۳۸۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: أَہْدَی أَبُو جَہْمِ بْنُ حُذَیْفَۃَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَمِیصَۃً شَامِیَّۃً لَہَا عَلَمٌ ، فَشَہِدَ فِیہَا الصَّلاَۃَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : رُدُّوا ہَذِہِ الْخَمِیصَۃَ إِلَی أَبِی جَہْمٍ ، فَإِنِّی نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِہَا فِی الصَّلاَۃِ ، فَکَادَ یَفْتِنُنِی ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: فَلَمْ نَعْلَمْہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ ، وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی حَائِطٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمْ نَعْلَمْہُ أَمَرَہُ أَنْ یَسْجُدَ لِلسَّہْوِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٣٨٧٢) (ا) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ابوجہم بن حذیفہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شامی چادر تحفے میں دی، جس میں کچھ نشان تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : یہ چادر ابوجہم کو واپس کر دو ، میں نے نماز میں اس کے نشانات کی طرف دیکھا قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی ۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ (رض) نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔