(۳۸۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ: فَأَتَیْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- أَرَادَ أَنْ یَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَنْ یَمْضِیَ - قَالَ - فَصَلَّیْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ -ﷺ- خَلْفَہُ رَکْعَۃً ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقَ بِہَا وَلَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا شَیْئًا۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَیْرِ یَقُولُونَ: مَنْ أَدْرَکَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ سَجْدَتَا السَّہْوِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَحَدِیثُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٨٨٨) (ا) مغیرہ بن شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز سے تاخیر ہوگئی۔ پھر انھوں نے مکمل قصہ ذکر کیا۔ فرماتے ہیں : ہم (میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) لوگوں کے پاس پہنچے اور عبدالرحمن بن عوف (رض) لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انھوں نے نبی کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ پھر میں نے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر مزید اضافہ (سجدہ سہو وغیرہ) نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں : ابوسعید خدری، ابن عمر اور ابن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کی ایک رکعت پائے اس پر سجدہ سہو ضروری ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کی حدیث اتباع کے زیادہ لائق ہے۔