(۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَدْ کَانَ یَکُونُ لإِحْدَانَا الدِّرْعُ تَحِیضُ فِیہِ وَفِیہِ تُصِیبُہَا الْجَنَابَۃُ ثُمَّ تَرَی فِیہِ قَطْرَۃً مِنْ دَمٍ فَتَقْصَعُہُ بِرِیقِہَا۔ (ق) وَہَذَا فِی الدَّمِ الْیَسِیرِ الَّذِی یَکُونُ مَعْفُوًّا عَنْہُ فَأَمَّا الْکَثِیرُ مِنْہُ فَصَحِیحٌ عَنْہَا أَنَّہَا کَانَتْ تَغْسِلُہُ وَذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۶۴]
(٣٩) سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک عورت کے پاس لمبی قیمص ہوتی تھی جس میں اس کو حیض کا خون آجاتا یا وہ ناپاک ہوجاتی، پھر وہ اس میں خون کا قطرہ دیکھتی تو اس کو خشک ہونے پر سے کھرچ دیتی۔
(ب) اگر خون کم ہو تو وہ معاف ہے اور اگر زیادہ ہو تو صحیح یہ ہے کہ اس کو دھویا جائے۔ اس کے دلائل اپنے محل پر آئیں گے، ان شاء اللہ۔