(۴۰) ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِیَّۃَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: إِذَا حَکَّ أَحَدُکُمْ جِلْدَہُ فَلاَ یَمْسَحْہُ بِرِیقِہِ فَإِنَّہُ لَیْسَ بِطَاہِرٍ۔
قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ: امْسَحْہُ بِمَائٍ۔
(ق) وَإِنَّمَا أَرَادَ سَلْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ الرِّیقَ لاَ یُطَہِّرَ الدَّمَ الْخَارِجَ مِنْہُ بِالْحَکِّ۔
(ت) وَأَمَّا حَدِیثُ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُ ((یَا عَمَّارُ مَا نُخَامَتُکَ وَلاَ دُمُوعُ عَیْنَیْکَ إِلاَّ بِمَنْزِلَۃِ الْمَائِ الَّذِی فِی رَکْوَتِکَ إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَکَ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ وَالْمَنِیِّ وَالدَّمِ وَالْقَیْئِ۔))
فَہَذَا بَاطِلٌ لاَ أَصْلَ لَہُ ، وَإِنَّمَا رَوَاہُ ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَمَّارٍ۔
(ج) وَعَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ ، وَثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ مُتَّہَمٌ بِالْوَضْعِ۔
[حسن أخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد ۹/۱۶۸]
(٤٠) حضرت سلیمان (رض) سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی جلد کو کھرچے تو خشک منی کونہ چھوئے، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا : اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ حضرت سلیمان (رض) کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی عمار بن یاسر (رض) کی حدیث کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ” اے عمار ! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو۔ تو اپنے کپڑے کو صرف بول وبراز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے : ثابت بن حماد ‘ عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابل حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔