hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3932

.

سنن البيهقي

3932
Sunan Al Bayhaqi
(۳۹۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَوْزَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ أَبِی السَّفَرِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو جَعْفَرٍ الْقَمَّاطُ الْکُوفِیَّانِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ أَبِی السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ یُوسُفَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ -ﷺ- خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ یَدْعُوہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَلَمْ یُجِیبُوہُ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ، وَأَمَرَہُ أَنْ یُقْفِلَ خَالِدًا وَمَنْ کَانَ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلٌ مِمَنْ کَانَ مَعَ خَالِدٍ أَحَبَّ أَنْ یُعَقِّبَ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلْیُعَقِّبْ مَعَہُ۔ قَالَ الْبَرَائُ: فَکُنْتُ مِمَنْ عَقَّبَ مَعَہُ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ خَرَجُوا إِلَیْنَا فَصَلَّی بِنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَصَفَّنَا صَفًّا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بَیْنَ أَیْدِینَا فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ کِتَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَسْلَمَتْ ہَمْدَانُ جَمِیعًا فَکَتَبَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِإِسْلاَمِہِمْ ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْکِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : ((السَّلاَمُ عَلَی ہَمْدَانَ ، السَّلاَمُ عَلَی ہَمْدَانَ))۔ أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ صَدْرَ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یُوسُفَ وَلَمْ یَسُقْہُ بِتَمَامِہِ ، وَسُجُودُ الشُّکْرِ فِی تَمَامِ الْحَدِیثِ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِہِ۔ [ضعیف]
(٣٩٣٢) (ا) سیدنا براء (رض) بیان فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید (رض) کو اہل یمن کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں اسلام کی دعوت دیں تو انھوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی بن ابی طالب (رض) کو بھیجا اور انھیں حکم دیا کہ خالد (رض) کو واپس بھیج دیں اور ان کے ساتھ والوں کو بھی سوائے اس شخص کے جو خالد (رض) کے ساتھ ہو اور وہ علی (رض) کے ساتھ بھی ملنا پسند کرے تو اس کو ساتھ ملا لو۔ براء (رض) فرماتے ہیں : میں ان لوگوں میں سے تھا جو علی (رض) کے لشکر میں شامل ہوگئے، جب ہم لوگوں کے قریب پہنچنے لگے تو وہ ہماری طرف نکل آئے۔ سید نا علی (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم نے ایک ہی صف بنائی۔ پھر سیدنا علی (رض) ہمارے درمیان سے آگے نکلے اور ان لوگوں کو رسول اللہ کا خط پڑھ کر سنایا۔ ہمدان تو سارے کے سارے اسلام لے آئے۔ حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کے اسلام لانے کی (خوشخبری ) لکھ بھیجی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود پڑھا تو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا : ہمدان پر سلام ہو ‘ ہمدان پر سلام ہو۔
(ب) اس حدیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکرتمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے۔